Must read

*منہ توڑ جواب ۔*

ایک شخص نے ايک دینی طالب علم کو دیکھ کر بولا :

اہلِ مغرب چاند تک پہنچ گئے اور آپ بیٹھے دینی درس پڑھ رہے ہیں جس کی دنیا میں کوئی ویلیو نھیں –

*طالب علم نے جواب دیا* ؛,
اس میں حيرت کی بات کیا ہے ؟
وہ مخلوق تک پہنچے اور ہم خالِق تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
لیکن تم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے اور اہلِ مغرب کے درمیان تم ہی اکیلے مفلس اور نکمّے ہو۔۔
نہ تو ان کے ساتھ چاند پر پہنچ سکے اور نہ ہی ہمارے ساتھ دینی تعلیم پڑھ کر خدا تک پہنچ سکے۔۔

One Must Read

وہ میری طرف دیکھتے ہوے مسکرایا تو اعتماد اسکی آنکھوں سے جھلک رہا تھا

بابا جی

بات صرف نظروں کی ہے اور نیت کی بھی ،بلکہ سارا دار و مدار تربیت پر ہے ،اگر کسی کو اچھی تربیت ملی ہو تو اسے محض عورت کا بے پردہ ہونا گمراہ نہیں کرسکتا

میں نے کچھ کہنے کیلئے لب کھولے
اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکا
ختم ہوتی سگریٹ پھینک کر نئی سگرٹ جلائی

چند لمحات تک براہ راست میری آنکھوں میں دیکھتا رہا اور جب بولا تو اسکا لہجہ حتمی تھا

بابا جی مجھے چودہ پندرہ سو سال پہلے کے حالات کی کوئی مثال مت دینا ، میں ان لوگوں میں سے ہوں جو آج میں جیتے ہیں اور اس جینے کو زبردستی کا گناہ ماننے کو تیار نہیں

میں نے کپ میں بچا چائے کا آخری گھونٹ بھرا

حیرت انگیز طور پر اسکا ذائقہ پورے کپ کے برخلاف نہایت کڑوا تھا

تمھاری بیٹی کیسی ہے ؟

میرا سوال سن کر اسکے لبوں پر مچلتی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی

اب اسکا لہجہ چائے کے آخری گھونٹ سے بھی زیادہ کڑوا تھا

آگئے نا مولوی پن پر ، ماں بہن بیٹی کو درمیان میں لائے بغیر دلیل سے بات نہیں ہوسکتی ؟

میں نے اطمینان کی ایک گہری سانس لی اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا کر آرام سے پاؤں پھیلادیئے

میرا یہ اطمینان اسکے لئے پریشان کن تھا

سگریٹ کی راکھ جھاڑتے ہوے اس نے بے چینی سے پہلو بدلا تو تشویش کے سائے اسکے چہرے پر ڈیرہ جما چکے تھے

بابا جی ………… بات پوری کریں

میں اپنی جگہ سے اٹھا ،اپنے جوتوں کے تسمے از سر نو درست کرتے ہوے اس سے مخاطب ہوا

تمھاری بیٹی کی عمر کیا ہے ؟

پندرہ سال

وہ مشینی انداز میں بولا

کیا تم اسکے کمرے میں بغیر اسکی اجازت کے یا پھر ناک کیے بغیر اچانک داخل ہونا پسند کروگے ؟ جبکہ اس بات کا خدشہ موجود ہو کہ شاید پرائیویسی کے احساس کی وجہ وہ نا مناسب حالت میں ہو ؟

اب کی بار بھی اسکا جواب مشینی سا تھا

نہیں میں یہ پسند نہیں کرونگا

کیوں ؟

اب مسکراہٹ اسکے لبوں سے میرے ہونٹوں پر منتقل ہوچکی تھی

کیوں کہ یہ تہذیب کے خلاف ہے

اسکا جواب سن کر میں نے آگے کی طرف جھکتے ہوے براہ راست اسکی آنکھوں میں جھانکا

اب وہ نظریں چرا رہا تھا

معاف کرنا لیکن کیا تمھاری نظریں تمھاری بیٹی کیلئے بری ہوسکتی ہیں ؟

اسکا چہرہ غصے یا پھر کسی اور جذبے سے لال انگارہوگیا

اس سے پہلے کے وہ میرے گریبان پر ہاتھ ڈالتا میں اپنی رو میں بولتا چلا گیا

اگر صرف نظروں کا پاک ہونا بے لباسی کی خباثت کو پاک کرسکتا ہے تو ایک بیٹی کیلئے اسکے باپ کی نظروں سے زیادہ پاک نظریں کس کی ہوسکتی ہیں ؟ کیوں ایک روشن خیال ترین بیٹی بھی باپ کے ہوتے تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوے سمٹ کر بیٹھ جاتی ہے ؟

کیوں ایک روشن خیال باپ اپنی بیٹی کو اس حالت میں دیکھنا خلاف شرافت سمجھتا ہے جس حالت میں دوسروں کی بیٹیوں کو دیکھنا اسے اپنی ”تربیت ” اور ”شرافت ” کے یقین کی وجہ سے نا مناسب نہیں لگتا ؟ کیا اس باپ کی نظروں میں اسکی اپنی بیٹی کیلئے شرافت کی مقدار دوسروں کی بیٹوں کے نسبت کم ہوتی ہے ؟

ذرا سوچنے کی تکلیف کروگے میرے دوست تو
تہذیب ، تربیت ، مرد کے دل کی نیت اور مرد کی نگاہوں کی نادیدہ شرافت کا خوشنما بھاری خیال اس وقت راکھ بن کر اڑتا نظر آئیگا جب تمھاری اپنی روشن خیال بیٹی تمہیں آتے دیکھ کر اپنی ننگی ٹانگیں سمیٹ کر بیٹھ جاتی ہے

وہ ایسا اسلئے نہیں کرتی کہ خدا نخواستہ تم کوئی جنگلی یا غلیظ انسان ہو بلکہ اسلئے کرتی ہے کہ اس روشن خیال بیٹی کے اندر کی عورت یہ جانتی ہے شرافت اور بے حیائی کا تعلق مرد کی نگاہوں سے ہو نہ ہو عورت کے برہنہ پن سے ضرور ہوتا ہے.
)

Must Read

*👈 تربیت زیادہ کار آمد ہے یا ماحول*

👈 بہترین تحریر ضرور پڑھیں

✍ وزیر کی جان پہ بنی ہوئی تھی، فقیر بات ہی نئیں سُن رہا تھا ، اۤخر طویل مِنت سماجت کے بعد فقیر نے سر اٹھایا ،
ہاں بول کیا کہنا ہے ؟
وزیر نے ہاتھ جوڑے اور بتانا شروع کیا
ایک مہینہ پہلے ہمارے بادشاہ سلامت نے اچانک دربار میں ایک سوال اچھالا کہ کامیاب کردار کے لئے تربیت زیادہ کارآمد ہے یا ماحول ؟ میرے ایک ہم منصب وزیر نے جھٹ کہا کہ عالی جاہ ! تربیت
جبکہ میں نے اُجلت میں کہا جناب ! ماحول ، ماحول تربیت پر فوقیت رکھتا ہے
بادشاہ سلامت نے ہماری طرف رعونت سے دیکھا اور فرمایا تم دونوں کو اپنا اپنا جواب عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا جو ثابت نہ کر سکا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا اور اس کے لئے ہمیں ایک ماہ کی مہلت دے دی ،
ہم دونوں اپنے جواب کی عملی تعبیر تلاشنے میں لگ گئے ، میں سوچ سوچ کے پاگل ہونے کے قریب تھا مگر کچھ سمجھ میں نئیں آرہا تھا ، کہ 24 دن بعد اچانک میرے ہم منصب وزیر نے میری موت کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے دربار میں اپنے جواب کو عملی طور پر ثابت کرنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملنے پر اس نے دربار میں کھڑے ہو کر تالی بجائی تالی بجتے ہی ایک ایسا منظر سامنے آیا کہ بادشاہ سمیت تمام اہلِ دربار کی سانسیں سینہ میں اٹک گئیں، دربار کے ایک دروازے سے 10 بِلیاں منہ میں پلیٹیں لئے جن میں جلتی ہوئی موم بتیاں تھیں ایک قطار میں خراماں خراماں چلتی دربار کے دوسرے دروازے سے نکل گئیں، نہ پلیٹیں گریں اور نہ موم بتیاں بچھیں، دربار تعریف و توصیف کے نعروں سے گونج اٹھا ، میرے ہم منصب نے بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، حضور ! یہ سب تربیت ہی ہے کہ جس نے جانور تک کو اس درجہ نظم و ضبط کا عادی بنادیا ، بادشاہ نے میری جانب دیکھا
مجھے اپنی موت سامنے نظر آرہی تھی میں دربار سے نکل آیا تبھی ایک شخص نے آپ کا نام لیا کہ میرے مسئلے کا حل آپ کے پاس ہی ہوسکتا ہے میں 2 دن کی مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہوں، دی گئی مدت میں سے 4 دن باقی ہیں اب میرا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے،
فقیر نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولا واپس جائو اور بادشاہ سے کہو کہ 30 ویں دن تم بھرے دربار میں ماحول کی افادیت ثابت کرو گے ،
مگر میں تو یہ کبھی نہ کر سکوں گا ۔ وزیر نے لا چارگی سے کہا
اۤخری دن مَیں خود دربار میں آئوں گا۔ فقیر نے سر جھکائے ہوئے کہا
وزیر مایوسی اور پریشانی کی حالت میں واپس دربار چلا آیا
مقررہ مدت کا اۤخری دن تھا دربار کھچا کھچ بھرا ہوا تھا وزیر کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا سب کی نظریں بار بار دروازے کی طرف اٹھتی تھیں کہ اچانک ایک مفلوک الحال سا شخص اپنا مختصر سامان کا تھیلا اٹھائے دربار میں داخل ہوا ، بادشاہ کی طرف دیکھا اور بولا ، وقت کم ہے میں نے واپس جانا ہے اس وزیر سے کہو تربیت کی افادیت کا ثبوت دوبارہ پیش کرے، تھوڑی دیر بعد ہی دوسرے وزیر نے تالی بجائی اور دوبارہ وہی منظر پلٹا ، دربار کے دروازہ سے 10 بلیاں اسی کیفیت میں چلتی ہوئی سامنے والے دروازے کی طرف بڑھنے لگیں ، سارا مجمع سانس روکے یہ منظر دیکھ رہا تھا وزیر نے امید بھری نگاہوں سے فقیر کی طرف دیکھا ، جب بلیاں عین دربار کے درمیان پہنچیں تو فقیر آگے بڑھا اور ان کے درمیان جا کے اپنا تھیلا اُلٹ دیا ، تھیلے میں سے موٹے تازے چوہے نکلے اور دربار میں ادھر اُدھر بھاگنے لگے، بلیوں کی نظر جیسے ہی چوہوں پر پڑی انہوں نے منہ کھول دیئے پلیٹیں اور موم بتیاں دربار میں بکھر گئیں، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی بلیاں چوہوں کے پیچھے لوگوں کی جھولیوں میں گھسنے لگیں، لوگ کرسیوں پر اچھلنے لگے دربار کا سارا نظام درہم برہم ہوگیا،
فقیر نے بادشاہ کی طرف دیکھا بولا آپ کسی جنس کی جیسی بھی اچھی تربیت کر لیں اگر اس کے ساتھ اسے اچھا ماحول فراہم نہیں کریں گے تو تربیت کہیں نہ کہیں اپنا اثر کھو دے گی ۔ کامیاب کردار کے لئے تربیت کے ساتھ ساتھ بہتر ماحول بے حد ضروری ہے ، اس سے پہلے کہ بادشاہ اسے روکتا فقیر دربار کے دروازے سے نکل گیا تھا۔
ہمارے ہاں ساری ذمے داری استاد کی تربیت پر ڈال دی جاتی ہے گھر وں کا کیا ماحول ہے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی.

Continue reading Must Read

One lesson

*ڈگری نہیں، ہُنر دیجئیے*
۔ٹیوٹا ، ڈاہٹسو ، ڈاٹسن ، ہینو ، ہونڈا ،سوزوکی ، کاواساکی ، لیکسس ، مزدا ، مٹسوبشی ، نسان ، اسوزو اور یاماہا یہ تمام برانڈز جاپان کی ہیں جبکہ شیورلیٹ ، ہونڈائی اور ڈائیوو جنوبی کوریا بناتا ہے ۔ آپ اندازہ کریں اس کے بعد دنیا میں آٹو موبائلز رہ کیا جاتی ہیں ؟ آئی – ٹی اور الیکٹرونکس مارکیٹ کا حال یہ ہے کہ سونی سے لے کر کینن کیمرے تک سب کچھ جاپان کے پاس سے آتا ہے ۔ ایل – جی اور سام سنگ جنوبی کوریا سپلائی کرتا ہے ۔2014 میں سام سنگ کا ریوینیو305 بلین ڈالرز تھا ۔ ” ایسر ” لیپ ٹاپ تائیوان بنا کر بھیجتا ہے جبکہ ویتنام جیسا ملک بھی ” ویتنام ہیلی کاپٹرز کارپوریشن ” کے نام سے اپنے ہیلی کاپٹرز اور جہاز بنا رہا ہے ۔ محض ہوا ، دھوپ اور پانی رکھنے والا سنگاپور ساری دنیا کی آنکھوں کو خیرہ کر رہا ہے ۔ اور کیلیفورنیا میں تعمیر ہونے والا اسپتال بھی چین سے اپنے آلات منگوا رہا ہے- خدا کو یاد کرنے کے لئیے تسبیح اور جائے نماز تک ہم خدا کو نہ ماننے والوں سے خریدنے پر مجبور ہیں ۔
دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ جبکہ دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے ۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو “ڈگریوں ” کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں ” ٹیکنیکل ” کرنا شروع کردیا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی تمام ممالک میں نظر آئینگے ۔ وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اسوقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گذرتا ہے باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی – ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گذارتے ہیں ۔
دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں ۔ آپ دل پر
ہاتھ رکھ کر بتائیں ۔ بی – ای ، بی – کام ، ایم – کام ، بی – بی – اے ، ایم – بی – اے ، انجینئیرنگ کے سینکڑوں شعبہ جات میں بے تحاشہ ڈگریاں اور اس کے علاوہ چار چار سال تک کلاس رومز میں جی – پی کے لئیے خوار ہوتے لڑکے لڑکیاں کونسا تیر مار رہے ہیں ؟ آپ یقین کریں ہم صرف دھرتی پر ” ڈگری شدہ ” انسانوں کے بوجھ میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ یہ تمام ڈگری شدہ نوجوان ملک کو ایک روپے تک کی پروڈکٹ دینے کے قابل نہیں ہیں ۔ ان کی ساری تگ و دو اور ڈگری کا حاصل محض ایک معصوم سی نوکری ہے اور بس۔
ہم اسقدر “وژنری ” ہیں کہ ہم لیپ ٹاپ اسکیم پر ہر سال 2000 ارب روپے خرچ کررہے ہیں لیکن لیپ ٹاپ کی انڈسٹری لگانے کو تیار نہیں ہیں ۔ آپ ہمارے ” وژنری پن ” کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پوری قوم سی – پیک کے انتظار میں صرف اسلئیے ہے کہ ہمیں چائنا سے گوادر تک جاتے 2000 کلو میٹر کے راستوں میں ڈھابے کے ہوٹل اور پنکچر کی دوکانیں کھولنے کو مل جائینگی اور ہم ٹول ٹیکس لے لے کر بل گیٹس بن جائینگے۔اوپر سے لے کر نیچے تک کوئی بھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔
آپ فلپائن کی مثال لے لیں ۔ فلپائن نے پورے ملک میں ” ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی ” کے شعبے کو ترقی دی ہے ۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں ۔ اور دنیا میں اسوقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتی کے ہمارا دشمن بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے جاچکا ہے ۔ آئی – ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں ۔جبکہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں دس دس گنا زیادہ ہوتی ہیں ۔اور دوسری طرف لے دے کر ایک ” مری ” ہی ہمارے لئیے ناسور بن چکا ہے ۔جہاں کے لوگوں کو سیاحوں کی عزت تک کرنا نہیں آتی ہے ۔
چینی کہاوت ہے کہ ” اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو “۔ چینیوں کے تو یہ بات سمجھ آگئی ہے ۔ کاش ہمارے بھی سمجھ آجائے ۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ ” ہنر مند آدمی کبھی بھوکا نہیں رہتا ہے “۔ خدارا ! ملک میں ” ڈگری زدہ ” لوگوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے ہنر مند پیدا کیجئیے ۔ دنیا کے اتنے بڑے ” ہیومن ریسورس ” کی اسطرح بے قدری کا جو انجام ہونا تھا وہ ہمارے سامنے ہے

New story

*۞ موازنیات ۞…*

*ایک کوا جنگل میں رہتا تھا اور اپنی زندگی سے مطمئن تھا لیکن ایک دن اس نے ایک ہنس کو دیکھ لیا اور سوچا ہنس اتنا سفید ہے اور میں اتنا کالا‘ یہ ہنس دنیا کا سب سے خوش پرندہ ہوگا‘ کوے نے اپنے خیالات ہنس کو بتائے‘ہنس نے کہا اصل میں مجھے لگتا تھا میں سب سے زیادہ خوش ہوں جب تک میں نے طوطا نہیں دیکھا تھا‘ طوطے کے پاس دو مختلف رنگ ہیں‘اب میں سوچتا ہوں طوطا سب سے زیادہ خوش ہوگا‘۔ کوا طوطے کے پاس پہنچا‘ طوطے نے کوے کو بتایا‘ میں بہت خوش زندگی گزار رہا تھا‘ پھر میں نے مور دیکھا‘ میرے پاس تو صرف دو رنگ ہیں جبکہ مور کے پاس کئی رنگ ہیں۔ کوا مور سے ملنے چڑیا گھر جا پہنچا‘ وہاں کوے نے دیکھا کہ سینکڑوں لوگ مور کو دیکھنے آئے ہوئے ہیں‘لوگوں کے روانہ ہونے کے بعد کوا مور کے قریب گیا‘ کوے نے کہا پیارے مور ! تم بہت خوبصورت ہو‘تمہیں دیکھنے روزانہ ہزاروں افراد آتے ہیں‘ مجھے لگتا ہے تم دنیا کے سب سے خوش رہنے والے پرندے ہو۔ مور نے جواب دیا‘ میں بھی سوچتا تھا میں سب سے خوصورت اور خوش پرندہ ہو لیکن میں اپنی خوبصورتی کی وجہ سے میں چڑیا گھر میں قید ہوں‘ میں نے چڑیا گھر پر کافی غورکیا اور مجھے اندازہ ہوا کہ صرف کوا وہ واحد پرندہ ہے جو چڑیا گھر کے کسی پنجرے میں قید نہیں‘ پچھلے کچھ دنوں سے مجھے لگتا ہے اگر میں کوا ہوتا تو آزاد ہوتا…*
*ہم انسانوں کا بھی یہی مسئلہ ہے‘ ہم دوسروں سے موازنہ کر کر کے اپنی خوشیاں برباد کر لیتے ہیں‘ ہمارے پاس جو ہے ہم اس کی قدر نہیں کرتے اور یہ سوچ ہمیں افسردگی کے چکر میں پھنسا لیتی ہے‘جو آپ کے پاس ہے اس کی قدر کریں‘ موازنے کو خیرباد کہیں‘ یہ مایوسی کی جڑ ہے….!*